بدھ، 31 دسمبر، 2014

ایک نیا ورق

سال کے ساتھ ایک اور ورق پلٹ گیا کتابِ زیست کا
دیکھو لکھنے والے نے کیا لکھا ہے

توقعات

کتنا دکھ دیتی ہیں نا!!!

تجھے ڈھونڈوں کہاں

عیاں کے بھیس میں پردہ نشیں سرِ نہاں دیکھا

یہاں تجھے کو وہاں تجھ کو دیکھوں
یہ تو ہی بتا دے کہاں تجھ کو دیکھوں

چنین و چناں میں عیاں تجھ کو دیکھوں
مکین و مکاں میں نہاں تجھ کو دیکھوں